حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آخری وقت – قسط نمبر 2

سردی اتنی سخت تھی کہ آپ کے مبارک اعضاء اس کی شدت سے زور زور سے کانپنے لگے

۔یہاں تک کہ اسی طرح سردی سے ٹھٹھرتے کانپتے ایسی شدید تکلیف کی حالت میں بھی اپنے رب عزوجل کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ،سخت سردی سے آپ کا انتقال ہوگیا۔

صبح قافلے والے بیدار ہوئے اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر جب کُوچ کا ارادہ کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارنے لگے: ” اے شخص اٹھو! لوگ یہاں سے جارہے ہیں ۔”چند بار پکارنے پر بھی جب آپ نے جواب نہ دیا تو ایک شخص آگے بڑااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہلانے جھلانے لگا تو دیکھا کہ آپ تو وصال فرماچکے ہیں۔

وہ شخص  پکارنے لگا: ‘اے اہل قافلہ:” اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام انتقال کرگیا ہے اوراسے دفن کئے بغیر بے گوروکفن  چھوڑکریہاں سے چلےجانا  مناسب نہیں ۔”قافلے والوں نے کہا:”یہ تو اپنے آقا سے بھاگا ہواگناہگار غلام تھا اس کا کیا ہوگا؟، ایک نیک شخص نے جواباً کہا :”یہ غلام توبہ کرکے اپنے آقا کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتا تھا اور اپنے عمل پر نادم بھی تھا اور ہم اس کا کفن دفن کا اہتمام کریں گے۔ ہوسکتا اللہ تعالی اس عمل کی ہمیں برکتیں عطا فرمائے ،اسکی تو بہ قبول ہوچکی ہو اوراگرہم اسے دفن کئے بغیر چل پڑے توقیامت کے دن اگر اس کا سوال کرلیا گیا تو کیا جواب دیں گے؟

اب  لوگوں نے اولاً غسل دینے کا ارادہ کیا تومعلوم ہوا،اس علاقے میں پانی  نہیں ہے۔”   اس علاقے کے ایک شخص نے کہا :”اپنا ایک آدمی میرے ساتھ بھیج دو پانی یہاں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ملے گا ۔” ڈول لے کر یہ لوگ روانہ ہوگئے ۔

لیکن جیسے ہی وہ قافلے سے روانہ ہوئے تو چونک کر کھڑے ہوگئے، اچانک سامنے قریب ہی انہیں پانی کی ایک نہر نظر آرہی ہے ، وہی آدمی کہنے لگا: ”بڑا عجیب معاملہ ہے میں اسی علاقے کا ہوں لیکن آج سے پہلے  اس جگہ  کبھی بھی  اس نہر کو نہیں دیکھا بلکہ اس جگہ اور اس کے گرداگرد علاقے میں تو پانی  ملتا ہی نہیں ۔”

بہرحال وہ شخص قافلے کی طرف لوٹ آیا اور کہنے لگا:” تمہاری مشقت ٹل گئی ،اب پانی گرم کرنے کے لئے لکڑیا ں جمع کرو۔”اورنہر سے پانی لینے کے لئے نہر پر پہنچے تو مزید حیران بلکہ ہیبت میں بھی مبتلا ہوگئے اس لئے کہ نہر کا پانی  شدید گرم پایا ۔

اب تو لوگوں کو سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کوئی عظیم ہستی محسوس ہونے لگی

،اور پھر مزید عجائبات کا سلسلہ شروع ہوگیا قبر کھودنے کا معاملہ آیا تو مٹی کو جھاگ سے زیادہ نرم پایا،زمین سے خوشبو کی ایسی لپٹیں آرہی تھیں لوگوں نے دنیا میں اس سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہ سونگھی تھی ۔

لوگ پر گھبراہٹ اور خوف طاری ہونے لگا ۔قبر سے نکلنے والی مٹی سے مشک سے زیادہ پیاری خوشبو آرہی تھی۔اب تو  لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ایک خیمہ نصب کیا جہاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسد اقدس کو منتقل کر دیا اورپھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کفن کے معاملے میں گفتگو کرنے لگے، ایک شخص نے کہا کہ” انہیں کفن میں دوں گا۔”دوسرے نے کہا:”میں دوں گا ۔” پھر جب ان سب کی رائے اس بات پر متفق ہو ئی کہ ہر شخص کفن کے لئے ایک ایک کپڑا دے  گا اور کاغذ،قلم پکڑکر  آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہ مبارک ،چہرہ مبارک وغیرہ  صفات مبارکہ لکھنے لگے  تاکہ  کوفہ پہنچ کر یہ نشانیاں پوچھ کر ان کے بارے میں لوگوں سے دریافت کریں گے،     پھر ان لوگو ں نے اس پرچے کو اپنے سامان میں رکھ لیا۔

پھر ان لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل  دیا اور کفن پہنا نے کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لباس کو اُتارناچاہا تو آپ کی ایک اور کرامت کا اظہار ہوگیا اور وہ یوں کہ آپ کا کفن جنّتی کفن میں تبدیل ہوچکا تھا۔ دیکھنے والوں نے کبھی ایسا کفن نہ دیکھا تھا ۔اس کفن پر مشک وعنبر لگا ہوا تھا جس کی خوشبو نے فضاکومزید معطر کر دیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جبین اطہر اور مبارک قدموں پر مشک کی مہک لگی ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر لوگ کہنے لگے : ” گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوّت رب عزوجل ہی دیتاہے،اللہ عزوجل نے انہیں اپنی قدرت کاملہ سے کفن پہنا کربندوں کے کفن سے بے نیاز کردیا، ہم اللہ عزوجل سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اس برگزیدہ اور مقبول شخص کے وسیلہ سے ہمیں جنت عطا فرمائے گا اور ہم پر رحم فرمائے گا۔”

اب لوگوں کو حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت سردی کی رات تنہا چھوڑنے پر سخت ندامت و شرمندگی ہو ئی ۔پھر ان لوگو ں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے ایک ہموار جگہ پر رکھا۔ جب ان لوگوں نے تکبیر کہی تو آسمان سے زمین تک مشرق سے مغرب تک تکبیر کہنے کی ایسی  آواز یں سنیں کہ ان کے کلیجے دہل گئے ، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اپنے سروں سے سنی جانے والی آوازوں سے مرعوب ہونے اور گھبراہٹ کی شدت کی وجہ سے یہ نہ سمجھ پائے کہ نماز جنازہ کس طر ح ادا کی جائے ۔پھر جب انہیں قبر کی طرف لے جانے کا ارادہ کیاتو اٹھاتے وقت انہیں یوں محسوس ہوا کہ حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جسد اقدس کسی اور مخلوق نے تھام رکھاہے اور انہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاوزن تک محسوس نہ ہوا۔بہرحال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کرنے کے لئے قبر کی طرف لائے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم اقد س کو قبر میں دفن کردیا۔

بعد دفن لوگ حیران وپریشان سفر پر روانہ ہوگئے۔ سفر پورا کرکے کوفہ کی مسجد میں آئے اوروہاں  لوگو ں کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ سنا یا اور وہاں حلیہ بیان کیاتو حلیہ بیان کرنے پرکچھ لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہچان کر رونا شروع کردیا ، اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد آپ کی کرامات ظاہر نہ ہوتیں تو حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کی خبرکسی کو نہ ہوتی اور نہ ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار پُر انوار کا پتاچلتا کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگو ں سے پوشیدگی اور کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہوا ور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین )